سورہ 12 · پارہ 12
سورة يوسف · 12:8
إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی* بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت **ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں.***
____________________
* ”اس کا بھائی“ سے مراد بنیامین ہے۔
**- یعنی ہم دس بھائی طاقتور جماعت اور اکثریت میں ہیں، جب کہ یوسف (عليه السلام) اور بنیامین (جن کی ماں الگ تھی) صرف دو ہیں، اس کے باوجود باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔
***- یہاں ضلال سے مراد غلطی ہے جو ان کے زعم کے مطابق باپ سے یوسف (عليه السلام) اور بنیامین سے زیادہ محبت کی صورت میں صادر ہوئی۔
____________________
* ”اس کا بھائی“ سے مراد بنیامین ہے۔
**- یعنی ہم دس بھائی طاقتور جماعت اور اکثریت میں ہیں، جب کہ یوسف (عليه السلام) اور بنیامین (جن کی ماں الگ تھی) صرف دو ہیں، اس کے باوجود باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔
***- یہاں ضلال سے مراد غلطی ہے جو ان کے زعم کے مطابق باپ سے یوسف (عليه السلام) اور بنیامین سے زیادہ محبت کی صورت میں صادر ہوئی۔
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
8. At that time, the brothers said among themselves: Joseph and his full brother are more beloved to our father than we are, whereas we are a group large in number. Why does he prefer them to us? We think that our father is mistaken in preferring them to us without any apparent reason.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں