سورہ 12 · پارہ 12

سورة يوسف · 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ

یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا.*
____________________
* حضرت یوسف (عليه السلام) نے یہ دعا اپنے دل میں کی۔ اس لئے کہ ایک مومن کے لئے دعا بھی ایک ہتھیار ہے۔ حدیث میں آتا ہے، سات آدمیوں کو قیامت والے دن عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے ایک ایسی عورت دعوت گناہ دے جو حسن و جمال سے بھی آراستہ ہو اور جاہ و منصب کی حامل ہو۔ لیکن وہ اس کے جواب میں کہہ دے کہ ”میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں“ (صحيح بخاري- كتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد ومسلم، كتاب الزكاة باب فضل إخفاء الصدقة)

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

33. Joseph (peace be upon him) prayed to his Lord saying: O my Lord, prison, which they threaten me with, is preferable to me than the shameful act they call me towards. If You do not remove their scheme from me, I may incline to them and I will become one of the ignorant ones – if I give in to them and do what they want me to do.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں