سورہ 12 · پارہ 12

سورة يوسف · 12:26

قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَاذِبِينَ

یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی*، اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی **دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے.
____________________
* حضرت یوسف (عليه السلام) نے جب دیکھا کہ وہ عورت تمام الزام ان پر ہی دھر رہی ہے صورت حال واضح کر دی اور کہا کہ مجھے برائی پر مجبور کرنے والی یہی ہے۔ میں اس سے بچنے کے لئے باہر دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا ہوں۔
**- یہ انہی کے خاندان کا کوئی سمجھدار آدمی تھا جس نے یہ فیصلہ کیا۔ فیصلے کو یہاں شہادت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، کیونکہ معاملہ ابھی تحقیق طلب تھا۔ شیر خوار بچے کی شہادت والی بات مستند روایات سے ثابت نہیں۔ صحیحین میں تین شیر خوار بچوں کے بات کرنے کی حدیث ہے جن میں یہ چوتھا نہیں ہے جس کا ذکر اس مقام پر کیا جاتا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

26. Joseph (peace be upon him) said: It was she who tried to get me to commit an indecent act. I did not intend it from her. Allah then made a child from her family speak in the cradle and it testified saying: If Joseph’s shirt is torn from the front, then it indicates that she is truthful, because she was trying to stop him from coming on to her; and then he will be lying.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں