سورہ 12 · پارہ 12

سورة يوسف · 12:18

وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے*، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے.**
____________________
* کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف (عليه السلام) کی قمیص خون میں لت پت کر لی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف (عليه السلام) کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف (عليه السلام) کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب (عليه السلام) نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، تاہم چونکہ، جو ہونا تھا، ہوچکا تھا، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بےخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔
**- منافقین نے جب حضرت عائشہ (رضي الله عنه) ا پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔ وَاللهِ لا أَجِدُ لِي وَلا لَكُمْ مَثَلا إِلا أَبَا يُوسُفَ «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ» (صحيح بخاري، تفسير سورة يوسف) ”اللہ کی قسم میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثال پاتی ہوں جس سے یوسف (عليه السلام) کے باپ یعقوب (عليه السلام) کو سابقہ پیش آیا تھا اور انہوں نے فَصَبْرٌ جَمِيلٌ کہہ کر صبر کا راستہ اختیار کیا تھا“، یعنی میرے لیے بھی سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

18. They confirmed their story with a trick. They brought the shirt of Joseph stained with the blood of something else, giving the impression that it was a sign of the wolf’s having eaten him. Jacob realised that they were lying, because the shirt was not torn, and he said to them: The matter is not as you have said. Instead, your souls have made an evil action that you committed seem good to you. I will exercise beautiful patience without any complaint. Allah is the One from Whom aid is requested against what you mention about the matter of Joseph.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں