سورہ 11 · پارہ 12
سورة هود · 11:114
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ
دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی*، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں**۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے.
____________________
* ”دونوں سروں“ سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نما زیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کر دی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ (صلى الله عليه وسلم)سے بھی ساقط کر دیا گیا۔ (ابن کثیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔
**- جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ( صحيح مسلم- كتاب الطهارة- باب الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة..... ) ایک اور حدیث میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالٰی گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے“۔ ( بخاري- كتاب المواقيت، باب الصلوات الخمس كفارة، ومسلم كتاب المساجد، باب المشي إلى الصلاة تمحى بها الخطايا وترفع به الدرجات )
____________________
* ”دونوں سروں“ سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نما زیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کر دی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ (صلى الله عليه وسلم)سے بھی ساقط کر دیا گیا۔ (ابن کثیر) وَاللهُ أَعْلَمُ۔
**- جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ( صحيح مسلم- كتاب الطهارة- باب الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة..... ) ایک اور حدیث میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالٰی گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے“۔ ( بخاري- كتاب المواقيت، باب الصلوات الخمس كفارة، ومسلم كتاب المساجد، باب المشي إلى الصلاة تمحى بها الخطايا وترفع به الدرجات )
تفسیر
آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔
114. Maintain, O Messenger, the prayer in the best manner at the two ends of the day: at the beginning and end of the day. Also, maintain the prayer during the hours of the night. Good actions wipe out minor sins. This is a warning for those who pay attention and a lesson for those who accept.
قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں