سورہ 10 · پارہ 11

سورة يونس · 10:73

فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ

سو وه لوگ ان کو جھٹلاتے رہے* پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو جانشین بنایا **اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ سو دیکھنا چاہئے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ڈرائے جاچکے تھے.
____________________
* یعنی قوم نوح (عليه السلام) نے تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود جھٹلانے کا راستہ نہیں چھوڑا چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضرت نوح (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر بچا لیا اور باقی سب کو حتٰی کہ حضرت نوح (عليه السلام) کے ایک بیٹے کو بھی غرق کر دیا۔
**- یعنی زمین میں ان سے بچنے والوں کو ان سے پہلے کے لوگوں کا جانشین بنایا۔ پھر انسانوں کی آئندہ نسل انہی لوگوں بالخصوص حضرت نوح (عليه السلام) کے تین بیٹوں سے چلی، اسی لئے حضرت نوح (عليه السلام) آدم ثانی کہا جاتا ہے۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

73. Noah’s people denied him and did not accept him. I therefore saved him and those believers who were with him in the ship. I made them the successors of those before them; and I destroyed those who rejected the signs and evidence that he brought by means of the Flood. So reflect, O Messenger, over the fate of the people who were warned by Noah (peace be with him) but did not believe.

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں