سورہ 1 · پارہ 1

سورة الفاتحة · 1:4

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔*
____________________
*دنیا میں بھی اگرچہ مکافات عمل کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے، تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا اور سزا دے گا۔ اسی طرح دنیا میں عارضی طور پر اور بھی کئی لوگوں کے پاس تحت الاسباب اختیارات ہوتے ہیں، لیکن آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا: «لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ» (غافر: 16) ”آج کس کی بادشاہی ہے؟“ پھر وہی جواب دے گا: «لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ» (غافر: 16) ”صرف ایک غالب اللہ کے لئے“ «يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡ‍ٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ» (الانفطار: 19) ”اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔“ یہ ہوگا جزا کا دن۔

تفسیر

آپ کی زبان میں تفسیر دستیاب نہیں۔ یہ المختصر انگریزی میں ہے۔

4. He is the Master of the day of Judgement, the day in which we will be brought back to life and repaid for what we have done, all of His creation will be held accountable for their actions and recompensed for them. On that day God will ask “To whom belongs the Kingdom today?” [Sūrah Ghafir: 16] No one, no matter how high his status, will answer, and then God will reply Himself, “to God, the One, the Overcomer” [Sūrah Ghafir: 16]

قارئ میں کھولیں - پوری سورہ پڑھیں