سورة الليل

سورہ 92 · مکی · 21 آیات

92:1پارہ 30 · ص 595

وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ1

قسم ہے رات کی جب چھا جائے.*
____________________
* - یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔
92:2پارہ 30 · ص 595

وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ2

اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.*
____________________
* یعنی رات کا اندھیرا ختم اور دن کا اجالا پھیل جائے۔
92:3پارہ 30 · ص 595

وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ3

اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.*
____________________
* یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی، کیونکہ مرد وعورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے ماموصولہ ہے۔ - یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔
92:4پارہ 30 · ص 595

إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ4

یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.*
____________________
* یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔
92:5پارہ 30 · ص 595

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ5

جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).*
____________________
* یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
92:6پارہ 30 · ص 595

وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ6

اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.*
____________________
* یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
92:7پارہ 30 · ص 595

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ7

تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.*
____________________
* يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی واطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ ( فتح القدیر ) ۔
92:8پارہ 30 · ص 595

وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ8

لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.*
____________________
* یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی، کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔
92:9پارہ 30 · ص 595

وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ9

اور نیک بات کی تکذیب کی.*
____________________
* یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔-
92:10پارہ 30 · ص 596

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ10

تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.*
____________________
* عُسْرَى( تنگی ) سےمراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لئے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لئے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر ورشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر ومعصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ ( ابن کثیر ) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لئے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة الليل )
92:11پارہ 30 · ص 596

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ11

اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.*
____________________
* یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
92:12پارہ 30 · ص 596

إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ12

بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.*
____________________
* یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ( جو کہ ہم نے کر دیا ہے)
92:13پارہ 30 · ص 596

وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ13

اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.*
____________________
* یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
92:14پارہ 30 · ص 596

فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ14

میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.
92:15پارہ 30 · ص 596

لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى15

جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.
92:16پارہ 30 · ص 596

الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ16

جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.*
____________________
* اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی (صلى الله عليه وسلم)، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لئے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لئے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔ ( فتح القدیر )۔
92:17پارہ 30 · ص 596

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى17

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.
____________________
* یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔
92:18پارہ 30 · ص 596

الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ18

جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.
____________________
* یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔
92:19پارہ 30 · ص 596

وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَىٰ19

کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.*
____________________
* یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔
92:20پارہ 30 · ص 596

إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ20

بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.*
____________________
* بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔
92:21پارہ 30 · ص 596

وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ21

یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.*
____________________
* یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت وشرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں

محمد جبريل - سورة الليل · Tlawati