سورة المرسلات

سورہ 77 · مکی · 50 آیات

77:1پارہ 29 · ص 580

وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا1

دل خوش کن چلتی ہواؤں کی قسم.*
____________________
* والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔ کے لائق ہوتا ہے۔
**- اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے درپے ہوں گے، بعض نے مُرسلات سے فرشتے یا انبیا مراد لئے ہیں اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الٰہی، یا احکام شریعت ہوں گے۔ یہ مفعول لہ ہوگا لاجل العرف یا منصوب بنزع الخافض۔ بالعرف
77:2پارہ 29 · ص 580

فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا2

پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم.*
77:3پارہ 29 · ص 580

وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا3

پھر (ابر کو) ابھار کر پراگنده کرنے والیوں* کی قسم.
____________________
* یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔
**- یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں ہوائیں مراد لینے کو راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
77:4پارہ 29 · ص 580

فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا4

پھر حق وباطل کو جدا جدا کر دینے والے.*
____________________
* یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔
77:5پارہ 29 · ص 580

فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا5

اور وحی ﻻنے والے فرشتوں کی قسم.*
____________________
* جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔
77:6پارہ 29 · ص 580

عُذْرًا أَوْ نُذْرًا6

جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاه کردینے کے لیے ہوتی ہے.*
____________________
* دونوں مفعول لہ ہیں، لأجل العذار والإنذار یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔ یا معنی ہیں مومنوں کے لئے خوشخبری، اور کافروں کے لئے ڈراوا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ مرسلات، عاصفات، اور ناشرات سے مراد ہوائیں اور فارقات، اور ملقیات سے فرشتے ہیں۔ یہی بات راجح ہے۔
77:7پارہ 29 · ص 580

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ7

جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے.*
____________________
* قسموں سے مراد، مقسم علیہ کی اہمیت سامعین پر واضح کرنا اور اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مقسم علیہ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے۔
77:8پارہ 29 · ص 580

فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ8

پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے.*
____________________
* طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔
77:9پارہ 29 · ص 580

وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ9

اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا.
77:10پارہ 29 · ص 580

وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ10

اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے.*
____________________
* یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کر دی جائے گی۔
77:11پارہ 29 · ص 580

وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ11

اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا.*
____________________
* یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
77:12پارہ 29 · ص 580

لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ12

کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟*
____________________
* یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لئے ہےیعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔
77:13پارہ 29 · ص 580

لِيَوْمِ الْفَصْلِ13

فیصلے کے دن کے لیے.*
____________________
* یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔
77:14پارہ 29 · ص 580

وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ14

اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
77:15پارہ 29 · ص 580

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ15

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.*
____________________
* یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں "ویل"جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر)
77:16پارہ 29 · ص 580

أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ16

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
77:17پارہ 29 · ص 580

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ17

پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو ﻻئے.*
____________________
* یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم مشرب، جنہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب کی۔
77:18پارہ 29 · ص 580

كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ18

ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں.*
____________________
* یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔
77:19پارہ 29 · ص 580

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ19

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.
77:20پارہ 29 · ص 581

أَلَمْ نَخْلُقْكُمْ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ20

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا.
77:21پارہ 29 · ص 581

فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَكِينٍ21

پھر ہم نے اسے مضبوط ومحفوظ جگہ میں رکھا.*
____________________
* یعنی رحم مادر میں۔
77:22پارہ 29 · ص 581

إِلَىٰ قَدَرٍ مَعْلُومٍ22

ایک مقرره وقت تک.*
____________________
* یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔
77:23پارہ 29 · ص 581

فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ23

پھر ہم نے اندازه کیا* اور ہم کیا خوب اندازه کرنے والے ہیں.
____________________
* یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔
77:24پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ24

اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے.
77:25پارہ 29 · ص 581

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا25

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
77:26پارہ 29 · ص 581

أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا26

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی.*
____________________
* یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
77:27پارہ 29 · ص 581

وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُمْ مَاءً فُرَاتًا27

اور ہم نے اس میں بلند وبھاری پہاڑ بنادیے* اور تمہیں سیراب کرنے واﻻ میٹھا پانی پلایا.
____________________
* رواسي راسية کی جمع۔ ثاوبت، جمے ہوئے پہاڑ، شامخات، بلند۔
77:28پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ28

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے وائے اور افسوس ہے.
77:29پارہ 29 · ص 581

انْطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ29

اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے.*
____________________
* یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے۔
77:30پارہ 29 · ص 581

انْطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ30

چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف.*
____________________
* جہنم سے جو دھواں آئے گا وہ بلند ہو کر تین طرفوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہوگا جس میں جہنمی کچھ سکون حاصل کرلیں۔
77:31پارہ 29 · ص 581

لَا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ31

جو در اصل نہ سایہ دینے واﻻ ہے اور نہ شعلے سے بچاسکتا ہے.*
____________________
- یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
77:32پارہ 29 · ص 581

إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ32

یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں.*
____________________
* اس کا ایک ترجمہ ہے جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔ (بوٹے بمعنی شہتیر کے ٹکڑے، جسے گیلی بھی کہتے ہیں)۔
77:33پارہ 29 · ص 581

كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ33

گویا کہ وه زرد اونٹ ہیں.*
____________________
* صفر، أصفر (زرد) کی جمع ہے، لیکن عرب میں اس کا استعمال اسود کے معنی میں بھی ہے۔ اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔
77:34پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ34

آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے.
77:35پارہ 29 · ص 581

هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ35

آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے.*
____________________
* محشر میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ ایک وقت وہ ہوگا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے پھر اللہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے پھر جس وقت ان کو جہنم میں لے جایا جارہا ہوگا اس وقت عالم اضطراب وپریشانی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جائیں گی۔ بعض کہتے ہیں کہ بولیں گے تو سہی لیکن ان کے پاس حجت کوئی نہیں ہوگی۔ گویا ان کو بات کرنی ہی نہیں آئے گی۔ جیسے ہم دنیا میں ایسے شخص کی بابت کہتے ہیں جس کے پاس کوئی تسلی بخش دلیل نہیں ہوتی، وہ تو ہمارے سامنے بول ہی نہیں سکا۔
77:36پارہ 29 · ص 581

وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ36

نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی.*
____________________
* مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہوگا جسے وہ پیش کرسکیں گے۔
77:37پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ37

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے.*
77:38پارہ 29 · ص 581

هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ38

یہ ہے فیصلے کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ہے.*
____________________
* یہ اللہ کے بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہی میدان میں جمع کر لیا۔
77:39پارہ 29 · ص 581

فَإِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ39

پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو.*
____________________
* یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہوگی؟ یہ آیت بھی ایسے ہی ہے، جیسے یہ آیت ہے «يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ...» (الرحمٰن: 33)
77:40پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ40

وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے.
77:41پارہ 29 · ص 581

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ41

بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں* اور بہتے چشموں میں.
____________________
* یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہوگا جیسے مشرکین کے لئے ہوگا۔
77:42پارہ 29 · ص 581

وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ42

اور ان میووں میں جن کی وه خواہش کریں.
____________________
* ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہونگے۔
77:43پارہ 29 · ص 581

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ43

(اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سےاپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے.*
____________________
* یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا۔ بما کنتم میں با سبب کے لئے ہے یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہوگا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا تخم حنظل بوکر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔
77:44پارہ 29 · ص 581

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ44

یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.*
____________________
* اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔
77:45پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ45

اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے ویل (افسوس) ہے.*
____________________
* کہ اہل تقویٰ کے حصے میں جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔
77:46پارہ 29 · ص 581

كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُمْ مُجْرِمُونَ46

(اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائده اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو.*
____________________
* یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔
77:47پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ47

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے.
77:48پارہ 29 · ص 581

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ48

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے.*
____________________
* یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔
77:49پارہ 29 · ص 581

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ49

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے.*
____________________
* یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر ونواہی کو نہیں مانتے۔
77:50پارہ 29 · ص 581

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ50

اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان ﻻئیں گے؟*
____________________
* یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو سورۂ تین کی آخری آیت أَلَيْسَ الله... الآية پڑھے تو وہ جواب میں کہے بَلَى ٰ وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، اور سورۂ قیامت کے آخر کے جواب میں بَلَى اور فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ کے جواب میں آمَنَّا بِالله، کہے۔ (أبوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، وضعیف أبی داود، ألبانی) بعض علماء کے نزدیک سامع کو بھی جواب دینا چاہیے۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں