سورة الفجر

سورہ 89 · مکی · 30 آیات

89:1پارہ 30 · ص 593

وَالْفَجْرِ1

قسم ہے فجر کی!*
____________________
* اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔
89:2پارہ 30 · ص 593

وَلَيَالٍ عَشْرٍ2

اور دس راتوں کی!*
____________________
* اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہو جائے“۔ (البخاري، كتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق)۔
89:3پارہ 30 · ص 593

وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ3

اور جفت اور طاق کی!*
____________________
* اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں، کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے، اس لئے کہ مخلوق جفت (جوڑا) یا طاق (فرد) ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ (ایسر التفاسیر)۔
89:4پارہ 30 · ص 593

وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ4

اور رات کی جب وه چلنے لگے.*
____________________
* یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سَيْرٌ (چلنا) آتے، جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
89:5پارہ 30 · ص 593

هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ5

کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.*
____________________
* ذَلِكَ سے مذکور مقسم بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل ودانش کے واسطے کافی نہیں ہے ؟ حِجْرٌ کے معنی ہوتے ہیں، روکنا، منع کرنا۔ انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے، اس لئے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے، جس طرح اسی مفہوم کے اعتبار سے اسے نھیہ بھی کہتے ہیں۔ جواب قسم یا مقسم علیہ لَتُبْعَثُنَّ ہے کیوں کہ مکی سورتوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیا گیا ہے۔ بعض کے نزدیک جواب قسم آگے آنے والے الفاظ ”إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ“ ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہاہے جو تکذیب وعناد کی بنا پر ہلاک کی گئی تھیں۔ مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے، جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔
89:6پارہ 30 · ص 593

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ6

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا.*
____________________
* ان کی طرف حضرت ہود (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے تکذیب کی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب ان پر نازل کیا جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی ( الحاقہ: 7 - 10 ) اور انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
89:7پارہ 30 · ص 593

إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ7

ستونوں والے ارم کے ساتھ.*
____________________
* إِرَمَ، عَادٍ سے عطف بیان یا بدل ہے۔ یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے۔ ان کا سلسلہ نسب ہے، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ ( فتح القدیر ) اس کا مقصد یہ وضاحت ہے کہ یہ عاد اولیٰ ہے۔ ذات العماد ( ستونوں والے ) سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف۔
علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنیادوں پر عظم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
89:8پارہ 30 · ص 593

الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ8

جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی.*
____________________
* یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی۔ یہ قوم کہا کرتی تھی مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ( حم السجدة،: 15 ) (ہم سے زیادہ کوئی طاقت ور ہے) ؟۔
89:9پارہ 30 · ص 593

وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ9

اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے.*
____________________
* یہ حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم تھی، اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ( الشعراء: 149 ) ۔
89:10پارہ 30 · ص 593

وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ10

اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا.*
____________________
* اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس میخوں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔
89:11پارہ 30 · ص 593

الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ11

ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا.
89:12پارہ 30 · ص 593

فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ12

اور بہت فساد مچا رکھا تھا.
89:13پارہ 30 · ص 593

فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ13

آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.*
____________________
* یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ وبرباد یا انہیں عبرت ناک انجام سےدوچار کر دیا۔
89:14پارہ 30 · ص 593

إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ14

یقیناً تیرا رب گھات میں ہے.*
____________________
* یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔
89:15پارہ 30 · ص 593

فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ15

انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.*
____________________
* یعنی جب اللہ کسی کو رزق ودولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ یہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔
89:16پارہ 30 · ص 593

وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ16

اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا).*
____________________
* یعنی وہ تنگی میں مبتلا کرکے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
89:17پارہ 30 · ص 593

كَلَّا ۖ بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ17

ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے.*
____________________
* یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے۔ جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔
**- ) یعنی ان کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں، نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرکے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دونگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں“۔ ( أبو داود، كتاب الأدب، باب في ضم اليتيم)
89:18پارہ 30 · ص 593

وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ18

اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے.
89:19پارہ 30 · ص 593

وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا19

اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو.
____________________
* یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا
89:20پارہ 30 · ص 593

وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا20

اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو.*
____________________
* جَمًّا بمعنی كَثِيرًا ۔
89:21پارہ 30 · ص 593

كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا21

یقیناً* جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی.
____________________
* یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ۔۔۔
89:22پارہ 30 · ص 593

وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا22

اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے).*
____________________
* کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی، اس طرح سات صفیں ہوں گی جو زمین کو گھیر لیں گی ۔
89:23پارہ 30 · ص 594

وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ23

اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی* اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟**
____________________
* ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم وبعد قعرها ترمذي، أبواب صفة جهنم، باب ما جاء في صفة النار) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا، پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیا علیہم السلام گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور ”يَا رَبِّ! نَفْسِي نَفْسِي“ پکاریں گے۔ (فتح القدیر) ۔
**- یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر ومعاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز اس ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
89:24پارہ 30 · ص 594

يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي24

وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.**
____________________
* یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔
89:25پارہ 30 · ص 594

فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ25

پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.
89:26پارہ 30 · ص 594

وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ26

نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.*
____________________
* اس لئے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کےپاس ہوں گے۔ دوسرے، کسی کو اس کے سامنے رائے یا دم زنی نہیں ہوگا حتیٰ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش تک نہیں کر سکے گا۔ ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا چہ جائکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو۔ یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
89:27پارہ 30 · ص 594

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ27

اے اطمینان والی روح.
89:28پارہ 30 · ص 594

ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً28

تو اپنے رب کی طرف* لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.
____________________
* یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لئے جنت میں تیار کی ہے۔ بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے۔ حافظ ابن کثیر نے ابن عسا کرکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا، بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ“۔ (ابن كثير)۔
89:29پارہ 30 · ص 594

فَادْخُلِي فِي عِبَادِي29

پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.
89:30پارہ 30 · ص 594

وَادْخُلِي جَنَّتِي30

اور میری جنت میں چلی جا.

سورہ کے آغاز سے چلائیں