سورة الشعراء

سورہ 26 · مکی · 227 آیات

26:1پارہ 19 · ص 367

طسم1

طٰسم.
26:2پارہ 19 · ص 367

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ2

یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں.*
26:3پارہ 19 · ص 367

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ3

ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.*
____________________
* نبی (صلى الله عليه وسلم) کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لیے جو تڑپ تھی، اس میں اس کااظہار ہے۔
26:4پارہ 19 · ص 367

إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ4

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.*
____________________
* یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہو جاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لیے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا، جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیا ورسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔
26:5پارہ 19 · ص 367

وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنَ الرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ5

اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.
26:6پارہ 19 · ص 367

فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ6

ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.*
____________________
* یعنی تکذیب کے نتیجے میں ہمارا عذاب عنقریب انہیں اپنی گرفت میں لے لے گا، جسے وہ ناممکن سمجھ کر استہزا ومذاق کرتے ہیں۔ یہ عذاب دنیا میں بھی ممکن ہے، جیسا کہ کئی قومیں تباہ ہوئیں، بصورت دیگرآخرت میں تو اس سےکسی صورت چھٹکارا نہیں ہوگا۔ «مَا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِين» َ نہیں کہا بلکہ «مَا كَانُوا بِه يَسْتَهْزِءُونَ» کہا۔ کیوں کہ استہزا ایک تو اعراض و تکذیب کوبھی مستلزم ہے۔ دوسرے، یہ اعراض و تکذیب سے زیادہ بڑاجرم ہے (فتح القدیر)
26:7پارہ 19 · ص 367

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ7

کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟*
____________________
* زَوْجٌ کے دوسرے معنی یہاں صنف اور نوع کے کیے گئے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی چیزیں ہم نے پیدا کیں جو کریم ہیں یعنی انسان کےلیے بہتر اور فائدے مند ہیں جس طرح غلہ جات ہیں، پھل میوےہیں اور حیوانات وغیرہ ہیں۔
26:8پارہ 19 · ص 367

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ8

بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے* اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.*
____________________
* یعنی جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے یہ چیزیں پیدا کرسکتا ہے، تو کیا وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔
**- یعنی اس کی یہ عظیم قدرت دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ اللہ اور رسول کی تکذیب ہی کرتے ہیں، ایمان نہیں لاتے۔
26:9پارہ 19 · ص 367

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ9

اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.*
____________________
* یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چوں کہ وہ رحیم بھی ہے اس لیے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مواخذ ہ کرتا ہے۔
26:10پارہ 19 · ص 367

وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ10

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.*
____________________
* یہ رب کی اس وقت کی ندا ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آرہے تھے، راستے میں انہیں حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آگ کی تلاش میں کوہ طور پہنچ گئے، جہاں ندائے غیبی نے ان کااستقبال کیا اورانہیں نبوت سے سرفراز کردیاگیا اور ظالموں کواللہ کاپیغام پہنچانے کا فریضہ ان کو سونپ دیاگیا۔
26:11پارہ 19 · ص 367

قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ11

قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.
26:12پارہ 19 · ص 367

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ12

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.
26:13پارہ 19 · ص 367

وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ13

اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے* میری زبان چل نہیں رہی** پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.***
____________________
* اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبعی خوف انبیا کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔
**- یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) زیادہ فصیح اللسان نہیں تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتےہیں۔
***- یعنی ان کی طرف جبرائیل (عليه السلام) کو وحی دے کر بھیج اور انہیں بھی وحی و نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔
26:14پارہ 19 · ص 367

وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ14

اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.*
____________________
* یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لیے فرعون اس کےبدلے میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پاکر حضرت موسیٰ (عليه السلام) مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعے پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینےکی کوشش کرے۔ اس لیے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔
26:15پارہ 19 · ص 367

قَالَ كَلَّا ۖ فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا ۖ إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ15

جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ* ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.*
____________________
* اللہ تعالیٰ نےتسلی دی کہ تم دونوں جاؤ، میرا پیغام اس کو پہنچاؤ، تمہیں جو اندیشے لاحق ہیں ان سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ آیات سے مراد وہ دلائل و براہین ہیں جن سے ہر پیغمبر کو آگاہ کیا جاتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے، جیسے یدبیضا اور عصا۔
**- یعنی تم جو کچھ کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا، ہم سن رہے ہوں گے۔ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں فریضۂ رسالت سونپ کر تمہاری حفاظت سے بے پرواہ نہیں ہو جائیں گے۔ بلکہ ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ معیت کامطلب مصاحبت نہیں، بلکہ نصرت و معاونت ہے۔
26:16پارہ 19 · ص 367

فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ16

تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.
26:17پارہ 19 · ص 367

أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ17

کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.
____________________
* یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کردے تاکہ میں انہیں شام کی سرز مین پر لے جاؤں، جس کا اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے۔
26:18پارہ 19 · ص 367

قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ18

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟* اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟**
____________________
* فرعون نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی دعوت اور مطالبے پر غور کرنے کے بجائے، ان کی تحقیر و تنقیص کرنی شروع کر دی اور کہا کہ کیا تو وہی نہیں ہے جو ہماری گود میں اور ہمارے گھر میں پلا، جب کہ ہم بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر ڈالتے تھے؟
**- بعض کہتے ہیں کہ 18 سال فرعون کے محل میں بسر کیے، بعض کے نزدیک 30 اور بعض کے نزدیک چالیس سال۔ یعنی اتنی عمر ہمارے پاس گزارنے کے بعد، چند سال ادھر ادھر رہ کر اب تو نبوت کا دعویٰ کرنے لگا ہے؟
26:19پارہ 19 · ص 367

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ19

پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.*
____________________
* پھر ہمارا ہی کھا کر ہماری ہی قوم کے ایک آدمی کو قتل کرکے ہماری ناشکری بھی کی۔
26:20پارہ 19 · ص 368

قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ20

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.*
____________________
* یعنی یہ قتل ارادتاً نہیں تھا بلکہ ایک گھونسہ ہی تھا جو اسے مارا گیا تھا، جس سے اس کی موت ہی واقع ہوگئی۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ بھی نبوت سے قبل کا ہے جب کہ مجھ کو علم کی یہ روشنی نہیں دی گئی تھی۔
26:21پارہ 19 · ص 368

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ21

پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.*
____________________
* یعنی پہلے جو کچھ ہوا، اپنی جگہ، لیکن اب میں اللہ کا رسول ہوں، اگر میری اطاعت کرے گا تو بچ جائے گا، بصورت دیگر ہلاکت تیرا مقدر ہوگی۔
26:22پارہ 19 · ص 368

وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ22

مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.*
____________________
- یعنی یہ اچھا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہاہے کہ مجھے تو یقیناً تو نے غلام نہیں بنایا اور آزاد چھوڑے رکھا لیکن میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ اس ظلم عظیم کے مقابلے میں اس احسان کی آخر حیثیت کیا ہے؟
26:23پارہ 19 · ص 368

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ23

فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟*
____________________
* یہ اس نے بطور استفہام کے نہیں، بلکہ استکبار اور استنکار کے طور پر کہا، کیونکہ اس کا دعوی تو یہ تھا«مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرِي» (القصص۔ 38) «میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں»۔
26:24پارہ 19 · ص 368

قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ24

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.
26:25پارہ 19 · ص 368

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ25

فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟*
____________________
* یعنی کیا تم اس بات پر تعجب نہیں کرتے کہ میرے سوا بھی کوئی اور معبود ہے؟
26:26پارہ 19 · ص 368

قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ26

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.
26:27پارہ 19 · ص 368

قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ27

فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.
26:28پارہ 19 · ص 368

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ28

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب* ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
____________________
* یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کاانتظام کرنے والابھی وہی ہے۔
26:29پارہ 19 · ص 368

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ29

فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.*
____________________
* فرعون نے جب دیکھا کہ موسیٰ (عليه السلام) مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کاملہ کی وضاحت کر رہے ہیں، جس کا کوئی معقول جواب اس سےنہیں بن پارہا ہے۔ تو اس نے دلائل سے صرف نظر کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسیٰ (عليه السلام) کو حوالۂ زنداں کرنے سے ڈرایا۔
26:30پارہ 19 · ص 368

قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ30

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟*
____________________
* یعنی ایسی کوئی چیز یا معجزہ جس سے واضح ہو جائے کہ میں سچا اور واقعی اللہ کا رسول ہوں، تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہیں کرے گا؟
26:31پارہ 19 · ص 368

قَالَ فَأْتِ بِهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ31

فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.
26:32پارہ 19 · ص 368

فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ32

آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.*
____________________
* بعض جگہ ثُعْبَانٌ کو حَيَّةٌ اور بعض جگہ جَانٌّ کہا گیاہے۔ ثُعْبَانٌ وہ سانپ ہوتا ہے جو بڑا ہو اور جَانٌّ چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں اور حَيَّةٌ چھوٹے بڑے دونوں قسم کےسانپوں پر بولا جاتا ہے۔ (فتح القدیر) گویا لاٹھی نے پہلے چھوٹے سانپ کی شکل اختیار کی پھر دیکھتے دیکھتے اژدھا بن گئی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔
26:33پارہ 19 · ص 368

وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ33

اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.*
____________________
* یعنی گریبان سے ہاتھ نکالا تو وہ چاند کےٹکڑے کی طرح چمکتا تھا۔ یہ دوسرا معجزہ موسیٰ (عليه السلام) نے پیش کیا۔
26:34پارہ 19 · ص 368

قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ34

فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.*
____________________
* فرعون بجائے اس کے کہ ان معجزات کو دیکھ کر، حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی تصدیق کرتا اور ایمان لاتا، اس نے تکذیب و عناد کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی بابت کہا کہ یہ تو کوئی بڑا فنکار جادوگر ہے۔
26:35پارہ 19 · ص 368

يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ35

یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.*
____________________
* پھر اپنی قوم کو مزید بھڑکانے کے لیے کہاکہ وہ ان شعبدہ بازیوں کے ذریعے سے تمہیں یہاں سے نکال کر خود اس پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اب بتلاؤ ! تمہاری کیا رائے ہے؟ یعنی اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟
26:36پارہ 19 · ص 368

قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ36

ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.
26:37پارہ 19 · ص 368

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ37

جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.*
____________________
* یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طر ف سے تکوینی انتظام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور ان دلائل و براہین کا بہ چشم سرخود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو عطا فرمائے تھے۔
26:38پارہ 19 · ص 368

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ38

پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.*
____________________
* چنانچہ جادوگروں کی ایک بہت بڑی تعداد مصر کے اطراف وجوانب سے جمع کر لی گئی، ان کی تعداد 12 ہزار، 17 ہزار، 19 ہزار، 30 ہزار اور80 ہزار (مختلف اقوال کے مطابق) بتلائی جاتی ہے۔ اصل تعداد اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ کسی مستند ماخذ میں تعداد کاذکر نہیں ہے۔ اس کی تفصیلات اس سے قبل سورۂ اعراف، سورۂ طہ میں بھی گزر چکی ہیں۔ گویا فرعون کی قوم، قبط، نے اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سےبجھانا چاہا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کفروایمان کے معرکے میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کفر خم ٹھونک کر ایمان کےمقابلے میں آتا ہے، تو ایمان کو اللہ تعالیٰ سرخروئی اور غلبہ عطا فرماتا ہے۔ جس طرح فرمایا، «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ» (الأنبياء۔ 18) ”بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں، پس وہ اس کا سر توڑ دیتا ہےاور جھوٹ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے“۔
26:39پارہ 19 · ص 368

وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنْتُمْ مُجْتَمِعُونَ39

اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟*
____________________
* یعنی عوام کو بھی تاکید کی جارہی ہے کہ تمہیں بھی یہ معرکہ دیکھنے کے لیے ضرور حاضر ہونا ہے۔
26:40پارہ 19 · ص 369

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِنْ كَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ40

تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.
26:41پارہ 19 · ص 369

فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ41

جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟
26:42پارہ 19 · ص 369

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ42

فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.
26:43پارہ 19 · ص 369

قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ43

(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.*
____________________
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی طرف سےجادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کےلیے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کا پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سےخوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب بعد میں اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلےایمان لے آئے۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
26:44پارہ 19 · ص 369

فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ44

انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.*
____________________
* جیسا کہ سورۂ اعراف اور طٰہ میں گزرا کہ ان جادوگروں نے اپنے خیال میں بہت بڑا جادو پیش کیا «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» (سورة الأعراف۔:116) حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے بھی اپنے دل میں خوف محسوس کیا، «فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى» (طه۔ 67) چنانچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کابڑا یقین تھا، جیسا کہ یہاں ان الفاظ سے ظاہر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو تسلی دی، کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا اپنی لاٹھی زمین پر پھینکو اور پھر دیکھو۔ چنانچہ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژدھے کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کرکے ان کے سارے کرتبوں کو وہ نگل گیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
26:45پارہ 19 · ص 369

فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ45

اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.
26:46پارہ 19 · ص 369

فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ46

یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.
26:47پارہ 19 · ص 369

قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ47

اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.
26:48پارہ 19 · ص 369

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ48

یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.
26:49پارہ 19 · ص 369

قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ49

فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے*، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.**
____________________
* فرعون کے لیے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا کہ جن جادوگروں کے ذریعے سے وہ فتح و غلبے کی آس لگائے بیٹھا تھا، وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غوروفکر سےکام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اورکہاکہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اورتمہارا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بے دخل کردو، «إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا» (الأعراف: 123) ۔
**- الٹے طور پر ہاتھ پاؤں کاٹنے کا مطلب، دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر ہے۔ اس پر سولی مستزاد۔ یعنی ہاتھ پیر کاٹنے سے بھی اس کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی، مزید اس نے سولی پر لٹکانے کا اعلان کیا۔
26:50پارہ 19 · ص 369

قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ50

انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں*، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.
____________________
* لا ضَيْرَ کوئی حرج نہیں یا ہمیں کوئی پروا نہیں۔ یعنی اب جو سزا چاہے دے لے، ایمان سے نہیں پھر سکتے۔
26:51پارہ 19 · ص 369

إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ51

اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں* ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.
____________________
* أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ اس اعتبار سے کہا کہ فرعون کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور انہوں نے قبول ایمان میں سبقت کی۔
26:52پارہ 19 · ص 369

۞ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ52

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.*
____________________
* جب بلاد مصر میں حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا قیام لمبا ہوگیا اور ہر طرح سےانہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں پر حجت قائم کردی۔ لیکن اس کےباوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے، تو اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ انہیں عذاب و نکال سے دوچار کرکے سامان عبرت بنادیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (عليه السلام) کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جائیں، اور فرمایاکہ فرعون تمہارے پیچھے آئے گا، گھبرانا نہیں۔
26:53پارہ 19 · ص 369

فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ53

فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.
26:54پارہ 19 · ص 369

إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ54

کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.*
____________________
* یہ بطور تحقیرکے کہا، ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ بتلائی جاتی ہے۔
26:55پارہ 19 · ص 369

وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ55

اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.*
____________________
* یعنی میری اجازت کے بغیران کا یہاں سے فرار ہونا ہمارے لیے غیظ و غضب کا باعث ہے۔
26:56پارہ 19 · ص 369

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ56

اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.*
____________________
* اس لیے ان کی اس سازش کو ناکام بنانے کےلیے ہمیں مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔
26:57پارہ 19 · ص 369

فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ57

بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.
26:58پارہ 19 · ص 369

وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ58

اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.*
____________________
* یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پھرپلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب ہی نہیں ہوا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سےانہیں تمام نعمتوں سے محروم کرکے ان کا وارث دوسروں کو بنادیا۔
26:59پارہ 19 · ص 369

كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ59

اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.*
____________________
* یعنی جو اقتدار اوربادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نےبنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطاکیا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورۂ دخان میں فرمایا گیا ہے«وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ» کہ ”ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا“ (ایسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرين میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورۂ شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانےکی صراحت آگئی ہے، تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونےکا حکم دیا گیا۔ اور ان کےانکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ موخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا۔ پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چنانچہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قبر، حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے۔ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں، ویسی ہی نعمتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں۔ لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں، وَاللهُ أَعْلَمُ۔
26:60پارہ 19 · ص 369

فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ60

پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.*
____________________
* یعنی جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتہ چلا کہ بنی اسرائیل راتوں رات یہاں سےنکل گئے ہیں، تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔
26:61پارہ 19 · ص 370

فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ61

پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.*
____________________
* یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ گھبرا اٹھے کہ آگےسمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب پھر دوبارہ وہی فرعون اور اس کی غلامی ہوگی۔
26:62پارہ 19 · ص 370

قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ62

موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.*
____________________
* حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقیناً نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔
26:63پارہ 19 · ص 370

فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ63

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار*، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.**
____________________
* چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی اور نشاندہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں اور بائیں طرف کا بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ میں راستہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے، واللہ اعلم۔
**- فِرْقٍ : قطعہ بحرسمندر کا حصہ، طَوْدٌ، پہاڑ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے، اس تائید الٰہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔
26:64پارہ 19 · ص 370

وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ64

اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.*
____________________
* اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کردیا۔
26:65پارہ 19 · ص 370

وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ65

اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.
26:66پارہ 19 · ص 370

ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ66

پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.*
____________________
* موسیٰ (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے نجات دی اور فرعون اور اس کا لشکر جب انہی راستوں سے گزرنے لگا تو ہم نے سمندر کو دوبارہ حسب دستور رواں کردیا، جس سے فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا۔
26:67پارہ 19 · ص 370

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ67

یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.*
____________________
* یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔
26:68پارہ 19 · ص 370

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ68

اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
26:69پارہ 19 · ص 370

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ69

انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.
26:70پارہ 19 · ص 370

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ70

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
26:71پارہ 19 · ص 370

قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ71

انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.*
____________________
* یعنی رات دن ان کی عبادت کرتے ہیں۔
26:72پارہ 19 · ص 370

قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ72

آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
26:73پارہ 19 · ص 370

أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ73

یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.*
____________________
* یعنی اگر تم ان کی عبادت ترک کردو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں؟
26:74پارہ 19 · ص 370

قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ74

انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.*
____________________
* جب وہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے تو یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل کرلیا۔ جیسے آج بھی لوگوں کو قرآن و حدیث کی بات بتلائی جائے تو یہی عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے خاندان میں تو ہمارے آباواجداد سے یہی کچھ ہوتا آرہا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔
26:75پارہ 19 · ص 370

قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ75

آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی* ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.
____________________
* أَفَرَأَيْتُمْ؟ کے معنی ہیں فَهَلْ أَبْصَرْتُمْ وَتَفَكَّرْتُمْ؟ کیا تم نے غوروفکر کیا؟
26:76پارہ 19 · ص 370

أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ76

تم اور تمہارے اگلے باپ دادا، وه سب میرے دشمن ہیں.*
____________________
* اس لیے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہےکہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی میں ان سے بیزار ہوں۔
26:77پارہ 19 · ص 370

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ77

بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.*
____________________
* یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔
26:78پارہ 19 · ص 370

الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ78

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.*
____________________
* یعنی دین و دنیا کے مصالح اور منافع کی طرف۔
26:79پارہ 19 · ص 370

وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ79

وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.*
____________________
* یعنی انواع و اقسام کے رزق پیدا کرنے والا اور جو پانی ہم پیتے ہیں، اسے مہیا کرنے والا بھی وہی اللہ ہے۔

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ80

اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.*
____________________
* بیماری کو دور کرکے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے۔ یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں۔ بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے۔ لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی۔ بلکہ اپنی طرف کی۔ یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔
26:81پارہ 19 · ص 370

وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ81

اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا
____________________
* یعنی قیامت والے دن، جب وہ سارے لوگوں کو زندہ فرمائے گا، مجھے بھی زندہ کرے گا۔
26:82پارہ 19 · ص 370

وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ82

اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.*
____________________
* یہاں امید، یقین کےمعنی میں ہے۔ کیونکہ کسی بڑی شخصیت سے امید، یقین کے مترادف ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے، اس سے وابستہ امید، یقینی کیوں نہیں ہوگی۔ اسی لیے مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لیے عَسَى کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ یقین ہی کے مفہوم میں ہے۔ خَطِيْئَتِي، خَطِيئَةٌ واحد کا صیغہ ہے لیکن خَطَايَا (جمع) کے معنی میں ہے۔ انبیا علیہم السلام اگرچہ معصوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی بڑے گناہ کا صدور ممکن نہیں۔ پھر بھی اپنے بعض افعال کو کوتاہی پر محمول کرتے ہوئےبارگاہ الٰہی میں عفو طلب ہوں گے۔
26:83پارہ 19 · ص 370

رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ83

اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ* عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.
____________________
* حکم یا حکمت سے مراد علم و فہم، قوت فیصلہ، یانبوت و رسالت یا اللہ کے حدود و احکام کی معرفت ہے۔
26:84پارہ 19 · ص 371

وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ84

اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.*
____________________
* یعنی جو لوگ میرے بعد قیامت تک آئیں گے، وہ میرا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے رہیں، اس سےمعلوم ہوا کہ نیکیوں کی جزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ذکر جمیل اور ثنائے حسن کی صورت میں بھی عطا فرماتا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا ذکر خیر ہرمذہب کے لوگ کرتے ہیں، کسی کو بھی ان کی عظمت و تکریم سےانکار نہیں ہے۔
26:85پارہ 19 · ص 371

وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ85

مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.
26:86پارہ 19 · ص 371

وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ86

اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.*
____________________
* یہ دعا اس وقت کی تھی، جب ان پر یہ واضح نہیں تھا کہ مشرک (اللہ کے دشمن) کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں، جب اللہ نے یہ واضح کردیا، تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی بیزاری کا اظہار کردیا۔ (التوبة: 114)
26:87پارہ 19 · ص 371

وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ87

اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.*
____________________
* یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مواخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن جب حضرت ابراہیم (عليه السلام) اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے مغفرت کی درخواست کریں گے اورفرمائیں گے یا اللہ ! اس سے زیادہ میرے لیے رسوائی اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحيح بخاري، سورة الشعراء وكتاب الأنبياء، باب قول الله واتخذ الله إبراهيم خليلا)۔
26:88پارہ 19 · ص 371

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ88

جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.
26:89پارہ 19 · ص 371

إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ89

لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.*
____________________
* قلب سلیم یا بے عیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی قلب مومن۔ اس لیے کہ کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک، دنیا کے مال و متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی رذالتوں سےپاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہ قلب مومن مذکورہ تمام ہی برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔
26:90پارہ 19 · ص 371

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ90

اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.
26:91پارہ 19 · ص 371

وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ91

اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.*
____________________
* مطلب یہ ہے کہ جنت اور دوزخ میں دخول سے پہلے ان کو سامنے کردیا جائے گا۔ جس سےکافروں کے غم میں اور اہل ایمان کے سرور میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
26:92پارہ 19 · ص 371

وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ92

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
26:93پارہ 19 · ص 371

مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ93

جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے*، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.**
____________________
* یعنی تم سے عذاب ٹال دیں یا خود اپنے نفس کو اس سے بچالیں۔
26:94پارہ 19 · ص 371

فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ94

پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.*
____________________
* یعنی معبودین اور عابدین سب کو مال ڈنگر کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔
26:95پارہ 19 · ص 371

وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ95

اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر* بھی، وہاں.
____________________
* اس سے مراد وہ لشکر ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔
26:96پارہ 19 · ص 371

قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ96

آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.
26:97پارہ 19 · ص 371

تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ97

کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.
26:98پارہ 19 · ص 371

إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ98

جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.*
____________________
* دنیا میں تو ہر ترشا ہوا پتھر اور قبر پر بنا ہوا خوش نما قبہ، مشرکوں کو خدائی اختیارات کاحامل نظر آتا ہے۔ لیکن قیامت کو پتہ چلے گا کہ یہ تو کھلی گمراہی تھی کہ وہ انہیں رب کے برابر سمجھتے رہے۔
26:99پارہ 19 · ص 371

وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ99

اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.*
____________________
* یعنی وہاں جاکر احساس ہوگا کہ ہمیں دوسرے مجرموں نے گمراہ کیا۔ دنیا میں انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں کام گمراہی ہے، بدعت ہے، شرک ہے تو نہیں مانتے، نہ غور وفکر سے کام لیتے ہیں کہ حق و باطل ان پر واضح ہوسکے۔
26:100پارہ 19 · ص 371

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ100

اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.
26:101پارہ 19 · ص 371

وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ101

اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.*
____________________
* گناہ گار اہل ایمان کی سفارش تو اللہ کی اجازت کے بعد انبیا وصلحا بالخصوص حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمائیں گے۔ لیکن کافروں اور مشرکوں کے لیے سفارش کرنے کی کسی کو اجازت ہوگی نہ حوصلہ، اور نہ وہاں کوئی دوستی ہی کام آئے گی۔
26:102پارہ 19 · ص 371

فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ102

اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.*
____________________
* اہل کفروشرک، قیامت کے روز دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے اللہ کو خوش کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہےکہ اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے تھے۔
26:103پارہ 19 · ص 371

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ103

یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے* ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.**
____________________
* یعنی حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا بتوں کے بارے میں اپنی قوم سے مناظرہ و محاجہ اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل، یہ اس بات کی واضح نشانی ہےکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
**- بعض نے اس کا مرجع مشرکین مکہ یعنی قریش کو قرار دیا ہے۔ یعنی ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں۔
26:104پارہ 19 · ص 371

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ104

یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.
26:105پارہ 19 · ص 371

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ105

قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.*
____________________
* قوم نوح (عليه السلام) نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح (عليه السلام) کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف اور اس کو مستلزم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ قوم نوح (عليه السلام) نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
26:106پارہ 19 · ص 371

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ106

جبکہ ان کے بھائی* نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
____________________
* بھائی اس لیے کہا کہ حضرت نوح (عليه السلام) ان ہی کی قوم کےایک فرد تھے۔
26:107پارہ 19 · ص 371

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ107

سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.*
____________________
* یعنی اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے، وہ بلاکم و کاست تم تک پہنچانے والا ہوں، اس میں کمی بیشی نہیں کرتا۔
26:108پارہ 19 · ص 371

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ108

پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.*
____________________
* یعنی میں تمہیں جو ایمان باللہ اور شرک نہ کرنے کی دعوت دے رہا ہوں، اس میں میری اطاعت کرو۔
26:109پارہ 19 · ص 371

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ109

میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.*
____________________
* میں تمہیں جو تبلیغ کر رہا ہوں، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا، بلکہ اس کا اجر رب العالمین ہی کے ذمے ہے جو قیامت کو وہ عطا فرمائے گا۔
26:110پارہ 19 · ص 371

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ110

پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.*
____________________
* یہ تاکید کے طور پر بھی ہے اور الگ الگ سبب کی بنا پر بھی، پہلے اطاعت کی دعوت، امانت داری کی بنیاد پر تھی اور اب یہ دعوت اطاعت عدم طمع کی وجہ سے ہے۔
26:111پارہ 19 · ص 371

۞ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ111

قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.*
____________________
* الأَرْذَلُونَ، أَرْذَلُ کی جمع ہے جاہ و مال نہ رکھنے والے، اور اس کی وجہ سےمعاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیرسمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
26:112پارہ 19 · ص 372

قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ112

آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟*
____________________
* یعنی مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا ہے کہ میں لوگوں کے حسب و نسب، امارت و غربت اور ان کے پیشوں کی تفتیش کروں بلکہ میری ذمہ داری صرف یہ ہےکہ ایمان کی دعوت دوں اور جو اسے قبول کرلے، چاہے وہ کسی حیثیت کا حامل ہو، اسے اپنی جماعت میں شامل کر لوں۔
26:113پارہ 19 · ص 372

إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ113

ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ* ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
____________________
* یعنی ان کے ضمائر اور اعمال کی تفتیش یہ اللہ کا کام ہے۔
26:114پارہ 19 · ص 372

وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ114

میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.*
____________________
* یہ ان کی اس خواہش کا جواب ہےکہ کمتر حیثیت کے لوگوں کو اپنے سے دور کردے، پھر ہم تیری جماعت میں شامل ہوجائیں گے۔
26:115پارہ 19 · ص 372

إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ115

میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.*
____________________
* پس جو اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرے گا، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، چاہے دنیا کی نظر میں وہ شریف ہو یا رذیل، جلیل ہو یا حقیر۔
26:116پارہ 19 · ص 372

قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ116

انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.
26:117پارہ 19 · ص 372

قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ117

آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.
26:118پارہ 19 · ص 372

فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ118

پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.
26:119پارہ 19 · ص 372

فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ119

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.
26:120پارہ 19 · ص 372

ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ120

بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.*
____________________
* یہ تفصیلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح (عليه السلام) کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بداخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح (عليه السلام) نےبد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں، جانوروں اور ضروری سازوسامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو تو بچالیاگیا اور باقی سب لوگوں کو، حتیٰ کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔
26:121پارہ 19 · ص 372

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ121

یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.
26:122پارہ 19 · ص 372

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ122

اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.
26:123پارہ 19 · ص 372

كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ123

عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.*
____________________
* عاد، ان کے جداعلیٰ کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نا م پڑ گیا۔ یہاں عاد کوقبیلہ تصور کرکے كَذَّبَتْ (صغیہ مونث) لایاگیا ہے۔
26:124پارہ 19 · ص 372

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ124

جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود* نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
____________________
* ہود (عليه السلام) کو بھی عاد کا بھائی اسی لیےکہا گیا ہےکہ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا، جس کی طرف سے اسےمبعوث کیاجاتا تھا اور اسی اعتبار سےانہیں اس قوم کا بھائی قرار دیاگیا ہے، جیسا کہ آگے بھی آئے گا اور انبیا و رسل کی یہ (بشریت) بھی ان کی قوموں کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ نبی کو بشر نہیں، مافوق البشر ہونا چاہیے۔ آج بھی اس مسلمہ حقیقت سے بے خبر لوگ پیغمبر اسلام حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو مافوق البشر باور کرانےپر تلے رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی خاندان قریش کے ایک فرد تھے جن کی طرف اولاً ان کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔
26:125پارہ 19 · ص 372

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ125

میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.
26:126پارہ 19 · ص 372

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ126

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
26:127پارہ 19 · ص 372

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ127

میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.
26:128پارہ 19 · ص 372

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ128

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.*
____________________
* رِيعٍ، رِيعَةٌ کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، دریا یا گھاٹی یہ ان گزرگاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو ارتفاع اور علو میں ایک نشانی یعنی ممتاز ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف ایک کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود (عليه السلام) نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتےہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیاکا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ بلکہ اس کے بیکار محض اور عبث ہونے میں کوئی شک نہیں۔
26:129پارہ 19 · ص 372

وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ129

اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.*
____________________
* اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔
26:130پارہ 19 · ص 372

وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ130

اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.*
____________________
* یہ ان کےظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔
26:131پارہ 19 · ص 372

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ131

اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.*
____________________
* جب ان کے اوصاف قبیحہ بیان کیے جو ان کے دنیا میں انہماک اور ظلم و سرکشی پر دلالت کرتے ہیں توپھر انہیں دوبارہ تقویٰ اور اپنی اطاعت کی دعوت دی۔
26:132پارہ 19 · ص 372

وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ132

اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.
26:133پارہ 19 · ص 372

أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ133

اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.
26:134پارہ 19 · ص 372

وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ134

باغات سے اور چشموں سے.
26:135پارہ 19 · ص 372

إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ135

مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.*
____________________
* یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ نے تمہیں جو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہیں کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاجاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لیے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
26:136پارہ 19 · ص 372

قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ136

انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.
26:137پارہ 19 · ص 373

إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ137

یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.*
____________________
* یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یایہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباواجداد کار بند رہے، مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔
26:138پارہ 19 · ص 373

وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ138

اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.*
____________________
* جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیاکہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدۂ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لیےانہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کااندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔
26:139پارہ 19 · ص 373

فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ139

چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا* یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
____________________
* قوم عاد، دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کی بابت اللہ نے فرمایا ہے۔«الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلادِ» (الفجر) ”اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی“ یعنی جو قوت اور شدت و جبروت میں اس جیسی ہو۔ اسی لیے یہ کہا کرتی تھی۔ «مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» (حم السجدة: 15) ”کون قوت میں ہم سے زیادہ ہے؟“ لیکن جب اس قوم نے بھی کفر کا راستہ چھوڑ کر ایمان و تقویٰ اختیار نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرمایا جو مکمل سات راتیں اور آٹھ دن ان پر مسلط رہا۔ باد تند آتی اور آدمی کو اٹھا کر فضا میں بلند کرتی اور پھر زور سے سر کے بل زمین پر پٹخ دیتی۔ جس سے اس کا دماغ پھٹ اور ٹوٹ جاتا اور بغیر سر کے ان کے لاشے اس طرح زمین پر پڑے ہوتے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں، کھووں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنارکھی تھیں، پینے کے لیے گہرے کنوئیں کھود رکھے تھے، باغات کی کثرت تھی۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور انہیں صفحۂ ہستی سےمٹا کر رکھ دیاگیا۔
26:140پارہ 19 · ص 373

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ140

بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.
26:141پارہ 19 · ص 373

كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ141

ﺛمودیوں* نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
____________________
* ثمود کامسکن حجر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسرالتفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
26:142پارہ 19 · ص 373

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ142

ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.
26:143پارہ 19 · ص 373

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ143

میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.
26:144پارہ 19 · ص 373

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ144

تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.
26:145پارہ 19 · ص 373

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ145

میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.
26:146پارہ 19 · ص 373

أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ146

کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.*
____________________
* یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب؟ استفہام انکاری اور تو بیخی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔ اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور ترہیب ہے کہ اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔
26:147پارہ 19 · ص 373

فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ147

یعنی ان باغوں اور ان چشموں.
26:148پارہ 19 · ص 373

وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ148

اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.*
____________________
* یہ ان نعمتوں کی تفصیل ہے جن سے وہ بہرہ ور تھے، طلع، کھجور کے اس شگوفے کو کہتے ہیں جو پہلے پہل نکلتا یعنی طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد کھجور کایہ پھل بلح، پھر بسر، پھر رطب اور اس کےبعد تمر کہلاتا ہے۔ (ایسر التفاسیر) باغات میں دیگر پھلوں کے ساتھ کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن عربوں میں چونکہ کھجور کی بڑی اہمیت ہے، اس لیے اس کا خصوصی طور پر بھی ذکر کیا۔ هَضِيمٌ کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً لطیف اور نرم و نازک۔ تہہ بہ تہہ وغیرہ۔
26:149پارہ 19 · ص 373

وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ149

اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.*
____________________
* فَارِهِينَ یعنی ضرورت سےزیادہ تصنع، تکلف اور فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا اتراتے اور فخروغرور کرتے ہوئے۔ جیسے آج کل لوگوں کا حال ہے۔ آج بھی عمارتوں پر بھی غیر ضروری آرائشوں اور فن کارانہ مہارتوں کا خوب خوب مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے پر برتری اور فخروغرور کا اظہار بھی۔
26:150پارہ 19 · ص 373

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ150

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
26:151پارہ 19 · ص 373

وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ151

بے باک حد سے گزر جانے والوں کی* اطاعت سے باز آجاؤ.
____________________
* مُسْرِفِينَ سے مراد وہ رؤسا اورسردار ہیں جو کفروشرک کے داعی اور مخالفت حق میں پیش پیش تھے۔
26:152پارہ 19 · ص 373

الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ152

جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.
26:153پارہ 19 · ص 373

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ153

وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.
26:154پارہ 19 · ص 373

مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ154

تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.
26:155پارہ 19 · ص 373

قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ155

آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.*
____________________
* یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی۔ ایک دن اونٹنی کے لیےاور ایک دن ان کے لیے پانی مقرر کردیاگیا تھا، اور ان سےکہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔
26:156پارہ 19 · ص 373

وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ156

(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.*
____________________
* دوسری بات انہیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے، نہ اسے نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی۔ گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھاکر گزارہ کرتی۔ اور کہا جاتا ہےکہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
26:157پارہ 19 · ص 373

فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ157

پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں*، بس وه پشیمان ہوگئے.**
____________________
* یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ اونٹنی، اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی، قوم ثمود ایمان نہیں لائی اور کفروشرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی (اونٹنی) کی کوچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں اور پیروں کو زخمی کردیا، جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کردیا۔
**- یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کےقتل کے بعد حضرت صالح (عليه السلام) نے کہا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ اس کے بعد جب واقعی عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئیں، تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا۔ لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد ندامت اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں۔
26:158پارہ 19 · ص 373

فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ158

اور عذاب نے انہیں آ دبوچا*۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
____________________
* یہ عذاب زمین سے بھونچال (زلزلے) اور اوپر سے سخت چنگھاڑ کی صورت میں آیا، جس سے سب کی موت واقع ہوگئی۔
26:159پارہ 19 · ص 373

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ159

اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.
26:160پارہ 19 · ص 374

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ160

قوم لوط* نے بھی نبیوں کو جھٹلای. ا
____________________
* حضرت لوط (عليه السلام)، حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بھائی ھاران بن آذر کے بیٹے تھے۔ ان کو حضرت ابراہیم (عليه السلام) ہی کی زندگی میں نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم (سدوم) اور (عموریہ) میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔
26:161پارہ 19 · ص 374

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ161

ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
26:162پارہ 19 · ص 374

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ162

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
26:163پارہ 19 · ص 374

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ163

پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
26:164پارہ 19 · ص 374

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ164

میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.
26:165پارہ 19 · ص 374

أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ165

کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.
26:166پارہ 19 · ص 374

وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ166

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو*، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.**
____________________
* یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتدا اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لیے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی وہ بدفعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کرلیاگیا ہے یعنی ان کے ہاں اب یہ سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مزاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد و عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضا مندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنی کیونکر گناہ اور ناجائز ہوسکتا ہے؟ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔
**- عَادُونَ، عاد کی جمع ہے۔ عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا۔ یعنی حق کو چھوڑ کر باطل کو اور حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح شرعی کے ذریعے سے عورت کی فرج سے اپنی جنسی خواہش کی تسکین کو حلال قرار دیا ہے اور اس کام کے لیے مرد کی دبر کو حرام۔ قوم لوط نے عورتوں کی شرم گاہوں کو چھوڑ کر مردوں کی دبر اس کام کے لیے استعمال کی اور یوں اس نے اس حد سے تجاوز کیا۔
26:167پارہ 19 · ص 374

قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ167

انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.*
____________________
* یعنی حضرت لوط (عليه السلام) کے وعظ و نصیحت کے جواب میں اس نے کہاکہ تو بڑا پاک باز بنا پھرتا ہے۔ یاد رکھنا اگر تو باز نہ آیا تو ہم اپنی بستی میں تجھے رہنے ہی نہ دیں گے۔ آج بھی بدیوں کا اتنا غلبہ اور بدوں کا اتنا زور ہے کہ نیکی منہ چھپائے پھرتی ہے، اور نیکوں کے لیےعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔
26:168پارہ 19 · ص 374

قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ168

آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.
____________________
* یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔
26:169پارہ 19 · ص 374

رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ169

میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.
26:170پارہ 19 · ص 374

فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ170

پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.
26:171پارہ 19 · ص 374

إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ171

بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.*
____________________
* اس سے مراد حضرت لوط (عليه السلام) کی بوڑھی بیوی ہے جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہی ہلاک کردی گئی۔
26:172پارہ 19 · ص 374

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ172

پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.
26:173پارہ 19 · ص 374

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ173

اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.*
____________________
* یعنی نشان زندہ کنکر پتھروں کی بارش سے ہم نے ان کو ہلاک کیا اور ان کی بسیتوں کو ان پر الٹ دیاگیا، جیسا کہ سورۂ ہود۔ 83،82 میں بیان ہوا۔
26:174پارہ 19 · ص 374

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ174

یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.
26:175پارہ 19 · ص 374

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ175

بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
26:176پارہ 19 · ص 374

كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ176

اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا
____________________
* أَيْكَةَ، جنگل کو کہتے ہیں۔ اس سے حضرت شعیب (عليه السلام) کی قوم اور بستی (مدین) کے اطراف کے باشندے مراد ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایکہ کے معنی ہیں گھنا درخت اور ایسا ایک درخت مدین کی نواحی آبادی میں تھا۔ جس کی پوجا پاٹ ہوتی تھی۔ حضرت شعیب (عليه السلام) کا دائرۂ نبوت اور حدود دعوت و تبلیغ، مدین سے لے کر اس نواحی آبادی تک تھا، جہاں ایکہ درخت کی پوجا ہوتی تھی۔ وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب الایکہ کہاگیا ہے۔ اس لحاظ سے اصحاب الایکہ اور اہل مدین کے پیغمبر ایک ہی یعنی حضرت شعیب (عليه السلام) تھے اور یہ ایک ہی پیغمبر کی امت تھی۔ ایکہ، چونکہ قوم نہیں، بلکہ درخت تھا۔ اس لیے اخوت نسبی کا یہاں ذکر نہیں کیا، جس طرح کہ دوسرے انبیا کے ذکر میں ہے۔ البتہ جہاں مدین کے ضمن میں حضرت شعیب (عليه السلام) کا نام لیاگیا ہے، وہاں ان کے اخوت نسبی کا ذکر بھی ملتا ہے، کیونکہ مدین، قوم کا نام ہے۔«وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا» (الأعراف: 85) بعض مفسرین نے اصحاب الایکہ اور مدین کو الگ الگ بستیاں قرار دے کر کہا ہے کہ یہ مختلف دو امتیں ہیں، جن کی طرف باری باری حضرت شعیب (عليه السلام) کو بھیجا گیا۔ ایک مرتبہ مدین کی طرف اور دوسری مرتبہ اصحاب الایکہ کی طرف۔ لیکن امام ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، «أَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ» کا جو وعظ اہل مدین کو کیا گیا، یہی وعظ یہاں اصحاب الایکہ کو کیاجارہا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ یہ ایک ہی امت ہے، دو نہیں۔
26:177پارہ 19 · ص 374

إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ177

جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
26:178پارہ 19 · ص 374

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ178

میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
26:179پارہ 19 · ص 374

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ179

اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.
26:180پارہ 19 · ص 374

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ180

میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.
26:181پارہ 19 · ص 374

۞ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ181

ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.*
____________________
* یعنی جب تم لوگوں کوناپ کردو تو اسی طرح پورا دو، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کر لیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو !۔
26:182پارہ 19 · ص 374

وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ182

اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.*
____________________
* اسی طرح تول میں ڈنڈی مت مارو، بلکہ پورا صحیح تول کردو !۔
26:183پارہ 19 · ص 374

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ183

لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو* بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.**
____________________
* یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔
**- یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لے لی ہے، جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے، «وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ» (الأعراف: 86) ”راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو“۔ (ابن کثیر)۔
26:184پارہ 19 · ص 375

وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ184

اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.*
____________________
* جِبِلَّةٌ اور جِبِلٌّ، مخلوق کے معنی میں ہے، جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا «وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلا كَثِيرًا» (سورة يس: 62) ”اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا“ اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وَهُوَ الْجَمْعُ ذُو الْعَدَدِ الْكَثِيرِ مِنَ النَّاسِ (فتح القدير)۔
26:185پارہ 19 · ص 375

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ185

انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.
26:186پارہ 19 · ص 375

وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ186

اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.*
____________________
* یعنی تو جو دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا ہے، ہم تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں، کیونکہ تو بھی ہم جیسا ہی انسان ہے۔ پھر تو اس شرف سے مشرف کیونکر ہوسکتا ہے؟
26:187پارہ 19 · ص 375

فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ187

اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.*
____________________
* یہ حضرت شعیب (عليه السلام) کی تہدید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تو واقعی سچا ہے تو جاہم تجھے نہیں مانتے، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گراکر دکھا!۔
26:188پارہ 19 · ص 375

قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ188

کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.*
____________________
* یعنی تم جو کفروشرک کر رہے ہو، سب اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس کی جزا تمہیں دے گا، اگر چاہے گا تو دنیا میں بھی دے دے گا، یہ عذاب اور سزا اس کے اختیار میں ہے۔
26:189پارہ 19 · ص 375

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ189

چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا*۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.
____________________
* انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرمادیا اور وہ اس طرح کہ بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلادیا۔ یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لیے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انہیں پکڑ لیا۔
امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تین مقامات پر قوم شعیب (عليه السلام) کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے اور تینوں جگہ موقع کی مناسبت سے الگ الگ عذاب کا ذکر کیا ہے۔ سورۂ اعراف، 88 میں زلزلہ کا ذکر ہے، سورۂ ہود، 94 میں صيحة(چیخ) کا اور یہاں شعراء میں آسمان سے ٹکڑے گرانے کا۔ یعنی تین قسم کا عذاب اس قوم پر آیا۔
26:190پارہ 19 · ص 375

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ190

یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.
26:191پارہ 19 · ص 375

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ191

اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
26:192پارہ 19 · ص 375

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ192

اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.
26:193پارہ 19 · ص 375

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ193

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.*
____________________
* کفار مکہ نے قرآن کےوحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیاکہ یہ قرآن یقیناً وحی الٰہی ہے اور محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا نہ لکھ سکتا ہے۔ گزشتہ انبیا اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا؟ اس لیے یہ قرآن یقیناً اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ یعنی جبرائیل (عليه السلام) لے کر آئے۔
26:194پارہ 19 · ص 375

عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ194

آپ کے دل پر اترا ہے* کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.**
____________________
* دل کا بطور خاص اس لیے ذکر فرمایا کہ حواس باطنہ میں دل ہی سب سے زیادہ ادراک او رحفظ کی قوت رکھتا ہے۔
**- یہ نزول قرآن کی علت ہے۔
26:195پارہ 19 · ص 375

بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ195

صاف عربی زبان میں ہے.
26:196پارہ 19 · ص 375

وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ196

اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.*
____________________
* یعنی جس طرح پیغمبرآخرالزماں (صلى الله عليه وسلم) کے ظہور و بعثت کا اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صفات جمیلہ کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی طرح اس قرآن کے نزول کی خوشخبری بھی صحف سابقہ میں دی گئی تھی۔ ایک دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ قرآن مجید، بہ اعتبار ان احکام کے، جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق رہا ہے، پچھلی کتابوں میں بھی موجود رہا ہے۔
26:197پارہ 19 · ص 375

أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ197

کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.*
____________________
* کیونکہ ان کتابوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرف رجوع کرتے تھے، اس اعتبار سے فرمایاکہ کیاان کا یہ جاننا اوربتلانا اس بات کی دلیل نہیں کہ محمد (صلى الله عليه وسلم)، اللہ کے سچے رسول اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ پھر یہ یہود کی اس بات کو مانتے ہوئے پیغمبر پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟۔
26:198پارہ 19 · ص 375

وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ198

اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.
26:199پارہ 19 · ص 375

فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ199

پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.*
____________________
* یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے حٰم السجدۃ۔ 44 میں ہے۔
26:200پارہ 19 · ص 375

كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ200

اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.*
____________________
* یعنی سَلَكْنَاهُ میں ضمیر کا مرجع کفروتکذیب اور جحود و عناد ہے۔
26:201پارہ 19 · ص 375

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ201

وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.
26:202پارہ 19 · ص 375

فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ202

پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.
26:203پارہ 19 · ص 375

فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ203

اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟*
____________________
* لیکن مشاہدۂ عذاب کے بعد مہلت نہیں دی جاتی، نہ اس وقت کی توبہ ہی مقبول ہے، «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا» (المؤمن: 85)۔
26:204پارہ 19 · ص 375

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ204

پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟*
____________________
* یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہےتو عذاب لے آ۔
26:205پارہ 19 · ص 375

أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ205

اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.
26:206پارہ 19 · ص 375

ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ206

پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.
26:207پارہ 19 · ص 376

مَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ207

تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.*
____________________
* یعنی اگر ہم انہیں مہلت دے دیں اور پھر انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا؟ یعنی انہیں عذاب سے بچاسکے گا؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ «وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ» (البقرة: 96) «وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى» (الليل: 11)۔
26:208پارہ 19 · ص 376

وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ208

ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.
26:209پارہ 19 · ص 376

ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ209

نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.*
____________________
* یعنی ارسال رسل اور انذار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل قریہ کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کےبعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انہیں ہلاک کیا۔ مضمون بنی اسرائیل: 15 اور قصص: 59 وغیرہ بھی بیان کیاگیا ہے۔
26:210پارہ 19 · ص 376

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ210

اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.
26:211پارہ 19 · ص 376

وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ211

نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.
26:212پارہ 19 · ص 376

إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ212

بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.*
____________________
* ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لیے کہ شیاطین کا قرآن لیکر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شروفساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سدباب ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیاگیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر برق خاطف بن کر گرتے اور بھسم کر دیتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔
26:213پارہ 19 · ص 376

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ213

پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.
26:214پارہ 19 · ص 376

وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ214

اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.*
____________________
* پیغمبر کی دعوت صرف رشتے داروں کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے ہوتی ہے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) تو پوری نسل انسانی کے لیے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتے داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ایک ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کےبعد نبی (صلى الله عليه وسلم) صفاپہاڑی پر چڑھ گئے اور يَا صَبَاحَاهُ کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کردے، اس کے ذریعے سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر دشمن کا لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہواچاہتا ہے، تو کیا تم مانو گے؟ سب نےکہا ہاں، یقیناً ہم تصدیق کریں گے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے نذیربنا کربھیجا ہے، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اس پر ابو لہب نے کہا تَبًّا لَكَ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلا لِهَذَا ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے بلایا تھا؟“ اس کے جواب میں سورۂ تبت نازل ہوئی (صحيح بخاري، تفسير سورة المسد) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ (رضی الله عنها) اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) کو بھی فرمایا، تم اللہ کے ہاں بچاؤ کا بندوبست کر لو، میں وہاں تمہارے کام نہیں آسکوں گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب وأنذر عشيرتك الأقربين)۔
26:215پارہ 19 · ص 376

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ215

اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.
26:216پارہ 19 · ص 376

فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ216

اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.
26:217پارہ 19 · ص 376

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ217

اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.
26:218پارہ 19 · ص 376

الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ218

جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.
26:219پارہ 19 · ص 376

وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ219

اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.*
____________________
* یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔
26:220پارہ 19 · ص 376

إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ220

وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.
26:221پارہ 19 · ص 376

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ221

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.
26:222پارہ 19 · ص 376

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ222

وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.*
____________________
* یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گناہ گاروں (یعنی کاﮨنوں، نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیا و صالحین پر۔
26:223پارہ 19 · ص 376

يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ223

(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.*
____________________
* یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلادیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور ملالیتے ہیں (جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔) ملاحظہ ہو (صحيح بخاري، كتاب التوحيد، باب قراءة الفاجر والمنافق وبدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، صحيح مسلم، كتاب السلام باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان)، «يُلْقُونَ السَّمْعَ» شیاطین آسمان سے سنی ہوئی بعض باتیں کاﮨنوں کو پہنچا دیتے ہیں، اس صورت میں سمع کے معنی مسموع کے ہوں گے۔ لیکن اگر اس کا مطلب حاسۂ سماعت (کان) ہے، تو مطلب ہوگا کہ شیاطین آسمانوں پر جاکر کان لگاکر چوری چھپے بعض باتیں سن آتےہیں اور پھر انہیں کاہنوں تک پہنچادیتے ہیں۔
26:224پارہ 19 · ص 376

وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ224

شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.
26:225پارہ 19 · ص 376

أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ225

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.
26:226پارہ 19 · ص 376

وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ226

اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.*
____________________
* شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ مدح و ذم میں، اصول و ضابطے کے بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کےمطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں۔ اسی قسم کے اشعار کے لیے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ”پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کردے، شعر سے بھرجانے سے بہتر ہے“۔ (ترمذی، ابواب الآداب و مسلم وغیرہ) یہاں اس کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا پیغمبر کاﮨﻦ ہے نہ شاعر۔ اس لیے کہ یہ دونوں ہی جھوٹے ہیں۔ چنانچہ دوسرےمقامات پر بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے شاعر ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ یٰسین:69، سورۃ الحاقہ: 40 - 43۔
26:227پارہ 19 · ص 376

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ227

سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے* اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا**، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.***
____________________
* اس سے ان شاعروں کو مستثنیٰ فرما دیا گیا، جن کی شاعری صداقت اور حقائق پر مبنی ہے اور استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ مومن، عمل صالح پر کاربند اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا شاعر غلط شاعری، جس میں جھوٹ، غلو اور افراط و تفریط ہو، کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جو مومنانہ صفات سےعاری ہوں۔
**- یعنی ایسے مومن شاعر، ان کافر شعراء کا جواب دیتے ہیں، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی ہجو (برائی) کی ہو۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابت (رضي الله عنه) کافروں کی ہجویہ شاعری کا جواب دیا کرتے تھے اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) ان کو فرماتے کہ ”ان (کافروں) کی ہجو بیان کرو، جبرائیل (عليه السلام) بھی تمہارے ساتھ ہیں“۔ (صحيح بخاري، كتاب بدء الخلق، باب ذكر الملائكة، مسلم، فضائل حسان بن ثابت) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی شاعری جائز ہے جس میں کذب و مبالغہ نہ ہو اور جس کے ذریعے سے مشرکین و کفار اور مبتدعین و اہل باطل کو جواب دیاجائے اور مسلک حق اور توحید و سنت کا اثبات کیاجائے۔
***- یعنی أَيَّ مَرْجَع يَرْجِعُونَ یعنی کون سی جگہ وہ لوٹتے ہیں؟ اور وہ جہنم ہے۔ اس میں ظالموں کے لیے سخت وعید ہے۔ جس طرح حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے ”تم ظلم سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کا باعث ہوگا“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم الظلم)۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں