سورة الإنشقاق

سورہ 84 · مکی · 25 آیات

84:1پارہ 30 · ص 589

إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ1

جب آسمان پھٹ جائے گا.*
____________________
* یعنی جب قیامت برپا ہوگی۔
84:2پارہ 30 · ص 589

وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ2

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا* اور اسی کے ﻻئق وه ہے.**
____________________
* یعنی اللہ اس کوپھٹنے کا جو حکم دے گا، اسے سنے گا اور اطاعت کرے گا۔
**- یعنی اس کے یہی لائق ہے کہ سنے اور اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پرغالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں، اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہو سکتی ہے ؟
84:3پارہ 30 · ص 589

وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ3

اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی.*
____________________
* یعنی اس کے طول وعرض میں مزید وسعت کر دی جائےگی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو صاف اور ہموار کرکے بچھا دیا جائے گا۔ اس میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
84:4پارہ 30 · ص 589

وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ4

اور اس میں جو ہے اسے وه اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی.*
____________________
* یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں، وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔
84:5پارہ 30 · ص 589

وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ5

اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی* اور اسی کے ﻻئق وه ہے.
____________________
* یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
84:6پارہ 30 · ص 589

يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ6

اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے.*
____________________
- یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح، سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لئے ہو یا شر کےلئے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہوگا، وہ تو اپنے سامنے پالے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل ووضاحت ہے۔
84:7پارہ 30 · ص 589

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ7

تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا.
84:8پارہ 30 · ص 589

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا8

اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا.*
____________________
* آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہوگا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل وکرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہوگا۔ مطلب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہوگا لیکن وہ ہلاکت سےدوچار نہیں ہوگا۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمائی ”یہ تو پیشی ہے“۔ یعنی مومن کے ساتھ معاملہ حساب کا نہیں ہوگا، ایک سرسری سی پیشی ہوگی مومن رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة انشقاق ) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ (اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا) نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ ( مسند احمد،6 / 48 ) ۔
84:9پارہ 30 · ص 589

وَيَنْقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا9

اور وه اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا.*
____________________
* یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا اس سے مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
84:10پارہ 30 · ص 589

وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ10

ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا.
84:11پارہ 30 · ص 589

فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُورًا11

تو وه موت کو بلانے لگے گا.*
____________________
* ثُبُورًا ہلاکت، خسارہ۔ یعنی وہ چیخے گا، پکارے گا، واویلا کرے گا کہ میں تو مارا گیا، ہلاک ہوگیا۔
84:12پارہ 30 · ص 589

وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا12

اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہوگا.
84:13پارہ 30 · ص 589

إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا13

یہ شخص اپنے متعلقین میں (دنیا میں) خوش تھا.*
____________________
* یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کےدرمیان بڑا خوش تھا۔
84:14پارہ 30 · ص 589

إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ14

اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا.*
____________________
* یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کےمعنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی دعا ہے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ(صحيح مسلم، الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، ترمذي، ابن ماجه ) مسلم میں بعد الكون ہے۔ مطلب ہے، اس بات سے میں پناہ مانگتا ہوں کہ ایمان کے بعد کفر، اطاعت کے بعد معصیت یاخیر کے بعد شر کی طرف لوٹوں۔
84:15پارہ 30 · ص 589

بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا15

کیوں نہیں*، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا.**
____________________
* ایک ترجمہ اس کا یہ بھی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ نہ لوٹے اور دوبارہ زندہ نہ ہو، یا بَلَى، کیوں نہیں، یہ ضرور اپنے رب کی طرف لوٹے گا۔
**- یعنی اس سے اس کا کوئی عمل مخفی نہیں تھا۔
84:16پارہ 30 · ص 589

فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ16

مجھے شفق کی قسم*! اور رات کی!
____________________
* شَفَقٌ، اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
84:17پارہ 30 · ص 589

وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ17

اور اس کی جمع کرده* چیزوں کی قسم.
____________________
* اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنےماویٰ اور مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
84:18پارہ 30 · ص 589

وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ18

اور چاند کی جب کہ وه کامل ہو جاتا ہے.*
____________________
* إِذَا اتَّسَقَ کے معنی ہیں، جب وہ مکمل ہو جائے جیسے وہ تیرھویں کی رات سے سولھویں تاریخ کی رات تک رہتا ہے۔
84:19پارہ 30 · ص 589

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ19

یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے.*
____________________
* طَبَقٌ کے اصل معنی شدت کے ہیں۔ یہاں مراد وہ شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی۔ (فتح الباري، تفسير سورة انشقاق) یہ جواب قسم ہے۔
84:20پارہ 30 · ص 589

فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ20

انہیں کیا ہو گیا کہ ایمان نہیں ﻻتے.
84:21پارہ 30 · ص 589

وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩21

اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجده نہیں کرتے.*
____________________
* احادیث سے یہاں نبی (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
84:22پارہ 30 · ص 589

بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُكَذِّبُونَ22

بلکہ جنہوں نے کفر کیا وه جھٹلا رہے ہیں.*
____________________
* یعنی ایمان لانے کےبجائے جھٹلاتے ہیں۔
84:23پارہ 30 · ص 589

وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ23

اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں.*
____________________
* یعنی تکذیب، یاجو افعال وہ چھپ کر کرتے ہیں۔
84:24پارہ 30 · ص 589

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ24

انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو.
84:25پارہ 30 · ص 590

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ25

ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے.

سورہ کے آغاز سے چلائیں

إبراهيم الأخضر - سورة الإنشقاق · Tlawati