سورة الأعلى

سورہ 87 · مکی · 19 آیات

87:1پارہ 30 · ص 591

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى1

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر.*
____________________
* یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی جو اس کے لائق نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اس کے جواب میں پڑھا کرتے تھے، سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى (مسند أحمد، 1/ 232 ۔ أبو داود، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة، وقال الألباني صحيح ) ۔
87:2پارہ 30 · ص 591

الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ2

جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا.*
____________________
* دیکھئے سورۃ الانفطار کا حاشیہ نمبر۔ 7
87:3پارہ 30 · ص 591

وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ3

اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازه کیا اور پھر راه دکھائی.*
____________________
* یعنی نیکی اور بدی کی۔ اس طرح ضروریات زندگی کی۔ یہ ہدایت حیوانات کو بھی عطا فرمائی۔ قَدَرٌ کا مفہوم ہے۔ اشیا کی جنسوں، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ کر سکے۔
87:4پارہ 30 · ص 591

وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ4

اور جس نے تازه گھاس پیدا کی.*
____________________
* جسے جانور چرتے ہیں۔
87:5پارہ 30 · ص 591

فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ5

پھر اس نے اس کو (سکھا کر) سیاه کوڑا کر دیا.*
____________________
* گھاس خشک ہو جائے تو اسے غُثَاءً کہتے ہیں، أَحْوَى سیاہ کر دیا۔ یعنی تازہ اور شاداب گھاس کو ہم سکھا کر سیاہ کوڑا بھی کر دیتے ہیں۔
87:6پارہ 30 · ص 591

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَىٰ6

ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا.*
____________________
* حضرت جبرائیل (عليه السلام) وحی لے کر آتے تو آپ اسے جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس طرح جلدی نہ کریں۔ نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے یعنی آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے، پس آپ اسے بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا، لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لئے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا۔ بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا۔ ( فتح القدیر ) ۔
87:7پارہ 30 · ص 591

إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ7

مگر جو کچھ اللہ چاہے۔ وه ظاہر اور پوشیده کو جانتا ہے.*
____________________
* یہ عام ہے، جہر قرآن کا وہ حصہ بھی ہے جسے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) یاد کر لیں، اور جو آپ کے سینے سے محو کر دیا جائے، وہ مخفی ہے۔ اس طرح جہر اونچی آواز سےپڑھے، خفی پست آواز سےپڑھے، خفی، چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر، ان سب کو اللہ جانتا ہے۔
87:8پارہ 30 · ص 591

وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ8

ہم آپ کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے.*
____________________
* یہ بھی عام ہے۔ مثلاً آپ پر وحی آسان کر دیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔ ہم آپ کی اس طریقے کی طرف رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا۔ ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کر دیں گے، ہم آپ کے لئے ایسے افعال واقوال آسان کر دیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لئے ایسی شریعت مقرر کریں گے، جو سہل، مستقیم اور متعدل ہوگی، جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
87:9پارہ 30 · ص 591

فَذَكِّرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرَىٰ9

تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائده دے.*
____________________
* یعنی وعظ ونصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہوگی۔ یہ وعظ ونصیحت اور تعلیم کے لئے ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ ( ابن کثیر ) امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، چاہے فائدہ دے یا نہ دے۔ کیونکہ انذار وتبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لئے ضروری تھی۔ یعنی أَوْ لَمْ تَنْفَعْ یہاں محذوف ہے۔
87:10پارہ 30 · ص 591

سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشَىٰ10

ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا.*
____________________
* یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقیناً عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوگا، ان میں خشیت الہیٰ اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہو جائے گا۔
87:11پارہ 30 · ص 592

وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى11

(ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا.*
____________________
* یعنی اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیوں کہ ان کا کفر پر اصرار اور اللہ کی معصیتوں میں انہماک جاری رہتا ہے۔
87:12پارہ 30 · ص 592

الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ12

جو بڑی آگ میں جائے گا.
87:13پارہ 30 · ص 592

ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ13

جہاں پھر نہ وه مرے گا نہ جئےگا*، (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا).
____________________
* ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا۔ حتیٰ کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ انبیا وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے، جس سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پردانہ اگ آتا ہے ۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب إثبات الشفاعة وإخراج الموحدين من النار)۔
87:14پارہ 30 · ص 592

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّىٰ14

بیشک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا.*
____________________
* جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک ومعصیت کی آلودگی سے پاک کر لیا۔
87:15پارہ 30 · ص 592

وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ15

اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا.
87:16پارہ 30 · ص 592

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا16

لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو.
87:17پارہ 30 · ص 592

وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ17

اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے.*
____________________
* کیوں کہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جب کہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔
87:18پارہ 30 · ص 592

إِنَّ هَٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ18

یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں.
87:19پارہ 30 · ص 592

صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ19

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں.

سورہ کے آغاز سے چلائیں

أحمد نعينع - سورة الأعلى · Tlawati