سورة النازعات

سورہ 79 · مکی · 46 آیات

79:1پارہ 30 · ص 583

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا1

ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!*
____________________
* نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
79:2پارہ 30 · ص 583

وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا2

بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!*
____________________
* نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
79:3پارہ 30 · ص 583

وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا3

اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!*
____________________
* سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سےموتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
79:4پارہ 30 · ص 583

فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا4

پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!*
____________________
* یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیا تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
79:5پارہ 30 · ص 583

فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا5

پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!*
____________________
* یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ (تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی)۔ قرآن نے اس بعث وجزاء کے لئے کئی مواقع پر قسم کھالی ہے جیسے سورۂ تغابں: 7 میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث وجزا کب ہوگی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
79:6پارہ 30 · ص 583

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ6

جس دن کانپنے والی کانپے گی.*
____________________
* یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
79:7پارہ 30 · ص 583

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ7

اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی.*
____________________
* یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سےچالیس سال بعد ہوگا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لئےکہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
79:8پارہ 30 · ص 583

قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ8

(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے.*
____________________
* قیامت کےاہوال اور شدائد سے۔
79:9پارہ 30 · ص 583

أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ9

جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی.*
____________________
* یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی ( مجرموں کی طرح ) جھکی ہوئی ہوں گی۔
79:10پارہ 30 · ص 583

يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ10

کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟*
____________________
* حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکریں قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گےجس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
79:11پارہ 30 · ص 583

أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَخِرَةً11

کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟*
____________________
* یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئےجائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
79:12پارہ 30 · ص 583

قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ12

کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے*
____________________
* یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہتاہے، پھر تو یہ دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی۔
79:13پارہ 30 · ص 583

فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ13

(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے.
79:14پارہ 30 · ص 583

فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ14

کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے.*
____________________
* سَاهِرَةٌ سےمراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لئےکہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سےانسان کی نیند اڑ جاتی ہےاور وہاں بیدار رہتاہے، اس لئے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ ( فتح القدیر ) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
79:15پارہ 30 · ص 583

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ15

کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
79:16پارہ 30 · ص 583

إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى16

جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا.*
____________________
* یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے واپس آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نےموسیٰ (عليه السلام) سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت ورسالت سےنوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ (عليه السلام) آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
79:17پارہ 30 · ص 584

اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ17

(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.*
____________________
* یعنی کفر ومعصیت اور تکبر میں حد سےتجاوز کر گیا ہے۔
79:18پارہ 30 · ص 584

فَقُلْ هَلْ لَكَ إِلَىٰ أَنْ تَزَكَّىٰ18

اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.*
____________________
* یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسندکرتا ہےجس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔
79:19پارہ 30 · ص 584

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ19

اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.*
____________________
* یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
79:20پارہ 30 · ص 584

فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ20

پس اسے بڑی نشانی دکھائی.*
____________________
* یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
79:21پارہ 30 · ص 584

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ21

تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.*
____________________
* لیکن ان دلائل ومعجزات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اور تکذیب ونافرمانی کےراستے پر وہ گامزن رہا۔
79:22پارہ 30 · ص 584

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ22

پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.*
____________________
* یعنی اس نے ایمان واطاعت سےاعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور موسیٰ (عليه السلام) کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کرکے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سےکرایا، تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
79:23پارہ 30 · ص 584

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ23

پھر سب کو جمع کرکے پکارا.*
____________________
* اپنی قوم کو، یا قتال ومحاربہ کے لئے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لئے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
79:24پارہ 30 · ص 584

فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ24

تم سب کا رب میں ہی ہوں.
79:25پارہ 30 · ص 584

فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ25

تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.*
____________________
* یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کےلئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کےعلاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
79:26پارہ 30 · ص 584

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَىٰ26

بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.*
____________________
* اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نےگزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
79:27پارہ 30 · ص 584

أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا27

کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا*؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
____________________
* یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر وتوبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
79:28پارہ 30 · ص 584

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا28

اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.*
____________________
* بعض نے سَمْكٌ کےمعنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسےایسی شکل وصورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
79:29پارہ 30 · ص 584

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا29

اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.*
____________________
* أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز َ اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سےاچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
79:30پارہ 30 · ص 584

وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا30

اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.*
____________________
* یہ حم السجدۃ:9 میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش ) اور چیز ہے اور دَحَى( ہموار کرنا ) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔
79:31پارہ 30 · ص 584

أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا31

اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
79:32پارہ 30 · ص 584

وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا32

اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
79:33پارہ 30 · ص 584

مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ33

یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
79:34پارہ 30 · ص 584

فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ34

پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
79:35پارہ 30 · ص 584

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ35

جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
79:36پارہ 30 · ص 584

وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ36

اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.*
____________________
* یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسےدیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف ودہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر ان کے غم وحسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
79:37پارہ 30 · ص 584

فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ37

تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).*
____________________
* یعنی کفر ومعصیت میں حد سے تجاوز کیاہوگا۔
79:38پارہ 30 · ص 584

وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا38

اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).*
____________________
* یعنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا ہوگا اور آخرت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ہوگی۔
79:39پارہ 30 · ص 584

فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ39

اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.*
____________________
* اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
79:40پارہ 30 · ص 584

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ40

ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے* سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.**
____________________
* کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
**- یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
79:41پارہ 30 · ص 584

فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ41

تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.*
____________________
* جہاں وہ قیام پذیر، بلکہ اللہ کا مہمان ہوگا۔
79:42پارہ 30 · ص 584

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا42

لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.*
____________________
* یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟
79:43پارہ 30 · ص 584

فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا43

آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟*
____________________
* یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
79:44پارہ 30 · ص 584

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا44

اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
79:45پارہ 30 · ص 584

إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَخْشَاهَا45

آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.*
____________________
* یعنی آپ کا کام صرف انذار ( ڈرانا ) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ مَنْ يَخْشَاهَا اس لئے کہا کہ انذار وتبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار وتبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لئےہے۔
79:46پارہ 30 · ص 584

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا46

جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.*
____________________
* عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لئے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش وعشرت اور اس کےمزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں