سورة الإخلاص

سورہ 112 · مکی · 4 آیات

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ1

آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے.
112:2پارہ 30 · ص 604

اللَّهُ الصَّمَدُ2

اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.*
____________________
* یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔
112:3پارہ 30 · ص 604

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ3

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.*
____________________
* یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔
112:4پارہ 30 · ص 604

وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ4

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.*
____________________
* اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔

سورہ کے آغاز سے چلائیں

عبدالله المطرود - سورة الإخلاص · Tlawati